21 مارچ 2012 - 19:30

عراق کے وزیراعظم نے عراق میں حالیہ بم دھماکوں میں دو اعلی فوجی افسروں کے ملوث ہونے کی خبر دیتے ہوئےکہا ہے کہ دہشت گردی کی مجرمانہ کارروائیوں میں بعض سیاسی شخصیات کی مداخلت کی وجہ سے عراق میں ابھی ثبات قائم نہیں ہوا ہے۔

ابنا: عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے عراق میں حالیہ بم دھماکوں میں دو اعلی فوجی افسروں کے ملوث ہونے کی خبر دیتے ہوئےکہا ہے کہ دہشت گردی کی جمرمانہ کارروائیوں میں بعض سیاسی شخصیات کی مداخلت کی وجہ سے عراق میں ابھی ثبات قائم نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ منگل کے دن ہونے والے بم دھماکوں میں فوج کے دو اعلی افسر ملوث تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک عراق کی بعض سیاسی شخصیات دہشت گردوں کی پشتپناہی کرتی رہیں گی تب تک عراق میں سو فیصد امن قائم نہیں ہوسکتا نوری مالکی نے کہا کہ عراق کا قانون ہر پوسٹ و مقام رہ کر خیانت کرنے والے مجرموں کے خلاف نافذ ہونا چاہیے۔ عراق کے وزیر اعظم نے کہا کہ بغداد میں عرب سربراہی اجلاس مقررہ تاریخ میں منعقد ہوگآ۔واضح رہے کہ عراق میں حالیہ بم دھماکوں میں 60 افراد شہید اور 200 سے زآئد زخمی ہوگئے تھے دھماکوں کی ذمہ داری القاعدہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ گروہ نے قبول کرلی ہے۔ عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی دہشت گردوں کی حمایت کررہے تھے جنکی گرفتاری کے لئے عراق کی عدالت نے وارنٹ جاری کررکھے ہہیں اور وہ عراق کے کردستان میں روپوش ہیں۔
....... 
/169